ہسپتال کے انتظامات پی ڈی ایم اے سنبھال رہی ، کسی چیز کی کمی نہیں ۔ ایگزیکیٹو ڈائریکٹرپمز
پمز ہسپتال میں کورونا کے دو مریضوں کی حالت تشویشناک ہو گئی ۔ تفصیلات کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر انصر محمود نے کہا ہے کہ کورونا وائر س کے دو مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصر محمود کا کہنا ہے کہ پمز ہسپتال میں آئسیو لیشن وارڈ کے 10 بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔ جبکہ ہسپتال میں 12 سو سے زائد مشتبہ کیسز آئے جن میں 270 افراد کے ٹیسٹ لئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال میں مزید آئیسولیشن وارڈ قائم کی جائے گی جس میں 20 بیڈز مزید بڑھا دیئے جائیں گے۔ پمز ہسپتال کی او پی ڈی کو بند کر دیا گیا ہے۔جو مزید تین ماہ تک رہے گا ۔او پی ڈی پر دباؤ نہ ہونے کے برابر تھا ۔انصر محممود نے کہا کہ پی ڈی ایم اے تمام انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں، ہسپتال میں کسی قسم کی کوئی شارٹج نہیں تاہم سہولیات اور وسائل موجود ہیں۔
واضح رہے اس سے قبل پمز ہسپتال میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے والوں کا رش لگ گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پمز ہسپتال میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے والوں کا رش لگا رہا،ایل طرف حکومت کی جانب سے 4 سے زیادہ افراد کو اکھٹے ہونے پر پابندی لگائی گئی تو دوسری جانب پمز ہسپتال کے باہر ٹیسٹ کیلئے آئے مریضوں کے حفاظتی اقدامات کا فقدان نظر آیا،ٹیسٹ کرانے والے ایک سو سے زائد افراد ایک جگہ پر اکھٹے تھے جن میں اٹلی سمیت دیگر ممالک سے آنے والے افراد شامل تھے۔
کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے کیلئے آنے والے شہریو ں کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال میں شہریوں کو الگ الگ کر کے بلالنے کا کوئی انتظام موجود نہیں اور نہ ہی لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، شہریوں کا کہنا تھا کہ کو لوگوں کو بلا کر صرف مطمئن کر کے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔پمز ہسپتال میں شہریوں کے ٹیسٹ نی کرنے اور تاخیر کے باعث شہری انتظامیہ کے ساتھ گتھم گھتا ہو گئے،شہریوں کا کہنا تھا کہ حکومتی دعوے اعلانات کے سوا کچھ نہیں۔


0 Comments